بنگلورو،6؍جولائی (ایس او نیوز) شہر بنگلورو میں کورونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کے ساتھ شہر میں صحت کا انفرسٹرکچر سرکاری سطح پر کس قدر ناقص ہے وہ سامنے آرہا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بڑے بڑے اسپتال کھول کر انسانیت کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے والے تجاری اداروں کے دعوے کورونا وائرس کے اس آزمائشی دور میں کس قدر کھو کلے ہیں۔
جہاں تک کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کے علاج کا تعلق ہے ان کے لئے اب بستروں کی کمی کھلنے لگی ہے اور سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بستروں کے تعین کے باوجود بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کورونا متاثرین کے علاج کے لئے یہ بستر کم پڑسکتے ہیں۔ سارے اسپتالوں میں علاج اور معالجے کی توجہات صرف کورونا وائرس کے مریضوں کی طرف مرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور اس کا خمیازہ ان مریضوں کو بھگتنا پڑرہا ہے جو عام بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ کسی بھی علاج کے لئے اگر لوگ اسپتالوں سے رجوع ہورہے ہیں تو ان کا علاج کرنے کی بجائے انہیں گھر لوٹا دیا جارہے ہے۔
اب صورتحال اور بھی سنگین اس طرح سے ہوگئی ہے کہ تقریباً تین مہینوں سے شہر کے بیشتر سرکاری اسپتال عوام کے لئے بند پڑے ہوئے ہیں اور ان اسپتالوں میں علاج سے محروم بیشتر افراد کی صحت میں بگاڑ پیدا ہوگیا اور کہا جارہا ہے کہ شہر میں کورونا وائرس سے ہٹ کر شرح اموات میں اضافہ کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ جیسے ہی ذیابیطس ، قلبی امراض ، کینسر ، گردوں کے امراض کے مریضوں کی حالت میں غیر معمولی بگاڑ پیدا ہورہا ہے ان کو فوری طور پر علاج فراہم کرنے کے لئے ان کے اقرباء کی طرف سے اسپتالوں کے چکر کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور اکثر علاج کی جستجو میں مریضوں کی موت بھی واقع ہورہی ہے یا پھر گھروں میں ہی مناسب علاج میسر نہ ہونے کے سبب لوگوں کی موت ہورہی ہے ۔ جن لوگوں کی گھروں میں حالت بگڑرہی ہے اور ان کو آخری لمحات میں بچانے کی امید کے ساتھ اسپتالوں سے رجوع کیا جارہا ہے ایسے مریضوں کو اسپتالوں میں یا تو داخلہ نہیں دیا جارہا ہے اور اگر اسی دوران اس مریض کی موت واقع ہو جائے تو مریض کو اسپتال میں مردہ قرار دے کر لوٹا دیا جارہا ہے ۔ گزشتہ 10-15 دنوں سے شہر میں اس طرح کے رجحان نے غیر معمولی شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں غیر کورونا وائرس اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
اس سلسلہ میں جلوس محمد ی کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور میسورو روڈ قبرستان کی مجلس منّظمہ کے کنوینر افسر بیگ قادری نے بتایا کہ مریضوں کو اسپتالوں میں بروقت علاج کی فراہمی میں لا پروائی کے نتیجے میں غیر کورونا وائرس اموات کی تعداد میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران زبردست اضافہ ہوچکا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ بنگلورو شہر کے وکٹوریہ ، بورنگ، کے سی جنرل تین بڑے اسپتال میں یہاں روزانہ علاج کے لئے ہزاروں مریض شہر بنگلورو ہی نہیں بلکہ ریاست کے کونے کونے سے آتے ہیں اگر ان تینوں اسپتالوں کو مکمل طور پر کووڈ اسپتال قرار دے دیا گیا تو حکومت کو چاہئے تھا کہ ان اسپتالوں میں علاج کے لئے رجوع ہونے والے مریضوں کے لئے متبادل انتظام کرتی لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا ۔ اب حکومت اس کوشش میں ہے کہ شہر کے تقریباً 100 برائیویٹ اسپتالوں میں کووڈ کے علاج کی سہولت فراہم کرے۔ اگر ان اسپتالوں کو بھی کووڈ کے لئے مخصوص کردیا گیا تو عام مریض اپنے علاج کے لئے کہا ں جائیں گے؟ ۔
ان کا کہنا ہے کہ کووڈ متاثرین کے علاج کے ساتھ ساتھ حکومت کو دیگر امراض میں مبتلا لوگوں کے علاج کے لئے بھی انتظام کروانا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کووڈ مریضوں کے علاج پر پوری توجہ مرکوز کر کے دیگر مریضوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔